تجنیس تام[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دو لفظوں کا انواع و اعداد و ترتیب حروف اور حرکات و سکنات میں یکساں مگر معنی میں مختلف ہونا (اس کی جملہ اقسام بھی اسی نام سے موسوم ہوتی ہیں)۔ "یاد رکھو یہ تینوں بھی تجنیس تام کی قسمیں ہیں۔"      ( ١٨٨١ء، بحرالفصاحت، ٩٠٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تجنیس' کے ساتھ کسرہ صفت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی صفت 'نام' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٣ء میں "دیوان فدا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دو لفظوں کا انواع و اعداد و ترتیب حروف اور حرکات و سکنات میں یکساں مگر معنی میں مختلف ہونا (اس کی جملہ اقسام بھی اسی نام سے موسوم ہوتی ہیں)۔ "یاد رکھو یہ تینوں بھی تجنیس تام کی قسمیں ہیں۔"      ( ١٨٨١ء، بحرالفصاحت، ٩٠٠ )

جنس: مؤنث